اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے واضح کیا ہے کہ مغرب کی تشویش کے باوجود پاکستان ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں کا اپنا پروگرام جاری رکھے گا۔
انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں ایک لیکچر کے دوران جنرل قدوائی نے کہا ’ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار بنانے کے حوالے سے ہمارا رویہ معذرت خواہانہ نہیں۔ یہ ایٹمی ہتھیار رہیں گے‘۔
انہوں نے لیکچر کے دوران پاکستان کوٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار بنانے پر مجبور کرنے والی وجوہات تفصیل سے بیان کیں۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ایک طرف دنیا پاکستان کو جنگی ہتھیار بنانے پر تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے تو وہیں وہ ان وجوہات کو نظر انداز کر رہی ہے جن کی وجہ سے پاکستان نے یہ کام کیا۔
پاکستان نے انڈیا کے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا مقابلہ کرنے کیلئے پہلی مرتبہ 2011 میں شارٹ رینج میزائل ’النصر‘ کا تجربہ کیا تھا۔
اس تجربے کے بعد امریکا اور دوسرے مغربی ملکوں نے جنگی ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ان کی سلامتی پر اپنی تشویش ظاہر کرنا شروع کر دی تھی۔
ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں کا معاملہ پاک-امریکا اسٹریٹیجک مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکی حکام اسے اپنے سب سے بڑےخدشات میں سے ایک سمجھے ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مغربی دباؤ کی وجہ سے ہی رواں سال یوم پاکستان کے موقع پر عسکری پریڈ میں نمائش کیلئے پیش کیے جانے والے میزائلوں میں انصر شامل نہیں تھا۔
امریکا پاکستان سے اپنا ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام محدود کرنے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔
ایک سفارتی ذریعے کے مطابق، پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ 31 مارچ سے یکم اپریل تک واشنگٹن میں شیڈول ایٹمی سیکیورٹی کانفرنس کے دوران اس حوالے سے وعدہ کرے۔
جنرل قدوائی کے مطابق پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام نہ تو بند کرے گا اور نہ ہی پابندیاں قبول کرے گا۔ ’این سی اے نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ اس حوالے سے تمام کوششیں ناکام ہوں گی‘۔
جنرل قدوائی کا یہ لیکچر وزیر اعظم نواز شریف کی امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل سے حالیہ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ملاقات میں نواز شریف نے امریکی سفیر پر واضح کر دیا تھا کہ پاکستان صرف ان ایٹمی اثاثوں کی سیکیورٹی پر وعدوں کیلئے تیار ہے جن سے اس کی عسکری صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔
نواز شریف نے ہیل کو بتایا کہ ایسا کرنے سے پاکستان کی قومی سلامتی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
جنرل قداوئی نے لیکچر کے دوران کہا کہ ایٹمی اسلحے، بالخصوص ٹیکٹیکل ہتھیاروں نے جنگ کے خدشات کم کرتے ہوئے سیاسی قیادت اور سفارت کاروں کو خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بننے والے تنازعات کا حل نکالنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے گیند اب سیاست دانوں اور سفارت کاروں کے کورٹ میں ہے، اور مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔
ٹیکٹیکل ہتھیاروں سے متعلق خدشات پر جنرل قدوائی نے بتایا کہ اس حوالے سے مناسب حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

0 Comments: