انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے صدر اور سابق ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں میں عالمی سطح پر کھیلنے کیلئے درکار پروفیشنلزم کی کمی ہے اور اس کو فوری طور پر بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہونے والے کے سی سی اے پریذیڈنٹ کپ کے فائننل کے بعد میڈیا سے گفگو کرتے ہوئے سابق عظیم بلے باز نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں دیگر ممالک کی طرح دومیسٹک کرکٹ کے معیار کو بہتر بنانا چاہیے۔
ظہیر عباس نے کہا کہ عالمی سطح پر یقینی طور پر پاکستان کو کھیل بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ حالیہ دنوں میں ہم جس طرح کھیل رہے ہیں وہ بہت شرمناک ہے۔ ہم ایسے نہیں کھیلتے تھے۔ اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری ڈومیسٹک کرکٹ میں پروفیشنلزم کی بہت کمی ہے۔ اس سسٹم کو مزید کرکٹر پیدا کرنے چاہیے تھے لیکن دیگر ملکوں کی طرح یہ کرکٹ کے معیار کو بلند کرنے کیلئے کچھ کرنے سے قاصر ہے۔
اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ جس کسی کو بھی وقار یونس کی جگہ ہیڈ کوچ کی ذمے داری سونپی جائے گی اس کیلئے قومی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانا ایک کٹھن مرحلہ ہو گا، میرا نہیں ہمیں پاکستانی ٹیم کیلئے واقعی کسی کوچ کی ضرورت ہے۔ لیکن اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوچ مقامی ہے یا غیر ملکی، ذہنیت سب سے اہم چیز ہے اور اس کو تبدیل کرنا ہو گا۔
ایشین بریڈ مین کے نام سے مشہور سابق بلے باز نے غیر ملکی کوچ کی ممکنہ تقرری کے حوالے سے سوال پر کہا کہ میں اس معاملے پر اپنا نقطہ نظر پیش کر کے کوئی تنازع کھڑا کرنا نہیں چاہتا کیونکہ کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہیں۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال آئی سی سی کی صدارت کے منصب کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد میں پی سی بی چیئرمین کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گا۔
ظہیر عباس کا کہنا تھا کہ میں نے آپ لوگوں سے ہی سنا کہ میں پی سی بی چیئرمین کے عہدے کیلئے امیدوار ہوں، میں ابھی ابھی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد وطن واپس لوٹا ہوں اور پاکستان کرکٹ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والی کسی بھی قسم کی سیاست کا حصہ نہیں، تاہم اگر آپ کو اس معاملے میں کوئی تصدیق ہو تو مجھے ضرور بتائیے گا۔

0 Comments: