لندن:
مغربی دنیا ایک جانب ترقی کا سفربہت تیزی سے طے کررہی ہے تو دوسری جانب بڑھتی ہوئی نسل پرستی اورتعصبانہ رویے کو اپنے سے دورنہیں کرپارہی ہے، خاص طورپربرطانیہ میں یہ خطرناک سوچ پروان چڑھتی ہی جارہی ہے جس کی تازہ مثال لندن کی میٹرو ٹرین میں سفرکرنے والے پاکستانی نژاد شہری کو برطانوی شہری کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
لندن میں برطانوی مسلمانوں کی نمائندہ کونسل کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے سوشل میڈیا پرمسلمانوں کے خلاف نسل پرستی اورنفرت کی ایسی وڈیو اپ لوڈ کی گئی جس کے بعد برطانیہ میں مسلم کمیونٹی اورنسل پرستی کے خلاف بولنے والوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
اس مختصروڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ لندن کے اپ ٹن پارک میں میٹروٹرین میں سفرکرنے والے ایک شخص نے نہ صرف پاکستانی نژاد شہری کوبغیرکسی وجہ کے زوردارگھونسا مارا بلکہ اسے برا بھلا بھی کہا جس کے بعد تشدد کا نشانہ بننے والے شخص کوکچھ سمجھ ہی نہ آیا اورحیرت ذدہ رہ گیا۔
وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تھپڑمارنے والا شخص فوری طورپرٹرین سے اترا اوربھاگنے لگا جب کہ پاکستانی نژاد شہری کے برابرمیں بیٹھی خاتون نے اس کا پیچھا کیا اورزورزورسے چلانے لگی کہ بلاوجہ اس شخص کو تھپڑ کیوں مارا جب کہ برا بھلا کیوں کہا گیا۔
دوسری جانب برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ تھپڑمارنے والے شخص کی شناخت میٹروٹرین کے ارد گرد لگے کیمروں کی مدد سے ہوئی جسے گرفتارکرلیا گیا ہے، گرفتارکیے گئے شخص پر مسافرپرتشدد کرنے،اس کو پریشان کرنے اورنسل پرستانہ رویہ اپنانے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں، ملزم کوضمانت پررہا کردیا گیا ہے جب کہ اسے دوبارہ 14 نومبرکو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔


0 Comments: