آپ اپنی غذا کو صحت بخش بنانا چاہتے ہیں تاکہ کینسر، امراض قلب، موٹاپے غرض متعدد خطرات سے بچ سکیں ؟ تو اس کے لیے کیا کرنا چاہئے؟
اس بات کا جواب ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
تحقیق کے مطابق غذا میں چربی کی موجودگی اتنی نقصان دہ نہیں جتنی چینی ہوتی ہے۔
جی ہاں چینی ہماری غذا میں شامل سب سے نقصان دہ جز ہے اور دہائیوں سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ موٹاپے، ذیابیطس سمیت متعدد امراض کی جڑ ہمارا میٹھا کھانے کی عادت ہے۔
درحقیقت چینی غذا میں شامل ہوکر بلڈ شوگر کی سطح میں ڈرامائی اضافہ اور کمی کرتی ہے جس کے نتیجے میں بھوک بھڑکتی ہے اور زیادہ کھانا موٹاپے کا باعث بن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اگر چینی کھانا چھوڑ دیں تو کیا ہوگا؟
تحقیق کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد کی غذائی عادات کا جائزہ تین دہائیوں تک لیا گیا جس کے دوران تین گروپس میں مختلف غذائی تجربات کیے گئے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ چینی سمیت دیگر کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذا کھانے والے افراد کو کسی قسم کے طبی فوائد حاصل نہیں ہوتے جبکہ زیتون کے تیل سمیت پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں کسی بھی وجہ سے موٹ کا خطرہ 27 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ ہر طرح کی چربی یکساں نہیں ہوتی، اگر آپ کی غذا میں مچھلی، گریوں وغیرہ کی چربی موجود ہو تو بیشتر بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ حیوانی چربی بھی اتنی زیادہ نقصان دہ نہیں جتنا تصور کیا جاتا ہے تاہم یہ کچھ امراض کا باعث بھی بنتی ہے۔
یہ تحقی طبی جریدے جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی۔

0 Comments: