سر پر بال نہ ہونا یقیناً کسی بھی مرد کے لیے ڈراﺅنے خواب سے کم نہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ شخصیت کی مضبوطی ان میں چھپی ہوتی ہے تو کچھ غلط نہیں۔
2015 میں ایک تحقیق ہوئی تھی جس میں مردوں کی جانب سے گوگل پر کی جانے والی سرچز کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ بڑی تعداد میں نوجوان بالوں کی نگہداشت کے مشورے اور ان کے اُگنے کے طریقوں کو تلاش کرتے ہیں اور سب سے زیادہ سرچ بالوں کی محرومی کو کیا گیا۔
اسی حوالے سے معروف کمپنی 'ڈَو مین کیئر' نے ایک سروے نما تحقیق کرکے وہ وجوہات مرتب کی ہیں جو مردوں میں بالوں کے گرنے کا باعث بنتی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بالوں کی جارحانہ انداز میں نگہداشت کرنا انہیں کمزور کرنے کا باعث بنتا ہے اور وہ گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق تولیے سے بہت زیادہ شدت سے بالوں کو خشک کرنے، سختی سے کنگھا کرنا اور بالوں کے لیے غلط کنگھے کا انتخاب بھی بالوں کی محرومی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ نہانے کے فوری بعد گیلے بالوں پر کنگھا کرنا بھی بالوں کے گرنے کا عمل تیز کردیتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے بالوں کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں۔
ان کے بقول دیگر عناصر میں ہیئر ڈرائر کا غیر ضروری استعمال یا بالوں کو کھینچنا (جیسا چھوٹے بچے اپنے والد کے ساتھ اکثر کرتے ہیں) قابل ذکر ہیں۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس سے ہٹ کر ماحولیاتی عناصر بھی بالوں کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسا سورج میں بہت زیادہ گھومنے کے نتیجے میں بالوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور گرمیوں کے مہینے میں اس سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی کا ہونا ضروری ہے۔
محققین کے مطابق جینیاتی عناصر بھی بالوں سے محرومی میں کردار ادا کرتے ہیں مگر یہ کوئی بڑا ذریعہ نہیں اور مختلف طریقوں سے اس سے بچا جاسکتا ہے، بالوں سے محرومی میں جسمانی دباﺅ کو بالوں کے گرنے کا سب سے بڑے سبب سمجھا جاتا ہے، جس کے بعد جینیاتی عناصر اور امراض کا نمبر آتا ہے۔

0 Comments: