لاہور: 'جب مجھے بتایا گیا کہ مجھے پاکستان جانا ہے تو میں نے وہاں نہ جانے کی وجوہات پر غور کرنا شروع کردیا کہ کس طرح اپنے دفتر والوں کو اس بات پر راضی کروں کہ مجھے پاکستان نہ بھیجا جائے، میں اپنی زندگی کے اگلے 6 ماہ دھول مٹی سے اٹی ہوئی سڑکوں، ٹریفک اور بدبودار گدھوں کے درمیان نہیں گزارنا چاہتی تھی۔ درحقیقت میں اپنا وقت شدت پسندوں اور مکمل طور پر ڈھکے ہوئے لوگوں کے درمیان گزارنے کی قطعی خواہش مند نہیں تھی'۔
پاکستان آنے سے قبل اسپین سے تعلق رکھنے والی کلارا اریگھی (Clara Arrighi) بھی دنیا کے ان دیگر افراد کی طرح ہی سوچتی تھیں، جو پاکستان کو گولیوں، دھماکوں، دہشت گردی اور بدنظمی کی وجہ سے جانتے ہیں، لیکن دفتری کام کے سلسلے میں پاکستان میں گزارے گئے کچھ ماہ اب ان کے لیے اثاثہ بن چکے ہیں۔
کلارا نے پاکستان میں گزارے گئے اپنے وقت اور یادوں کو فیس بک پر شیئر کیا، جو جلد ہی وائرل ہوگئی اور اسے اب تک 16 ہزار سے زائد مرتبہ شیئر کیا جاچکا ہے۔
ہسپانوی خاتون کے مطابق پاکستان جانے سے قبل کئی لوگوں نے انھیں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا، 'بیمار ہونے یا فوڈ پوائزن کے لیے تیار ہوجاؤ'، کسی نے کہا، 'تمھیں اپنی ملازمت تبدیل کرلینی چاہیے' جبکہ کسی کا کہنا تھا، 'نہیں، میرا کبھی پاکستان جانا نہیں ہوا، لیکن میرا بنگلہ دیش جانا ہوا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ یہ بالکل ویسا ہی ہے، یا ہندوستان اور افغانستان جیسا'۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے مجھے کسی نے یہ بھی بتایا، 'جب آپ پاکستان جائیں گی تو آپ 2 مرتبہ روئیں گی، پہلی مرتبہ جب آپ کو وہاں بھیجا جائے گا اور دوسری مرتبہ جب آپ وہاں سے واپس آئیں گی'۔
کلارا نے لکھا، 'اور واقعی 7 ماہ بعد میں دو مرتبہ روئی'۔
وہ پاکستان کی خوبصورتی میں کھو گئی تھیں، انھوں نے لکھا، 'پاکستان کی خوبصورتی کو لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے، یہاں کی ہر چیز اَن چھوئی ہے، یہاں کی قدرت، یہاں کی ثقافت، یہاں کے شہر سب کچھ'۔
'رنگین ملبوسات میں موجود خواتین، جن کی پشمینہ شال ان کے سر سے ڈھلک جائے اور اس کے نیچے سے جھانکتے ان کے کالے سیاہ بال اور ہر سڑک اور ہر کونے میں کرکٹ کھیلتے ہوئے مرد'۔
'میں نے یہاں خوبصورت پہاڑوں پر چڑھائی کی، صاف شفاف اور خوبصورت جھیلوں میں تیراکی کی، سحر انگیز مساجد کا دورہ کیا اور چائے کے لاتعداد کپ پیئے۔ میں نے یہاں بہت سے کھانوں کا مزہ چکھا اور مجھے کبھی بھی فوڈ پوائزن نہیں ہوا، نہ ہی میں بیمار ہوئی اور واقعی اگر میں اتنا مزیدار کھانا کھانے کے قابل نہیں ہوتی تو میرے پیٹ میں درد ہوتا اوریہاں کے آموں کی تو کیا ہی بات ہے'۔
کلارا کا مزید کہنا تھا، 'تاہم یہ اہم نہیں ہے کہ یہ ملک کتنا خوبصورت ہے، لیکن آپ کو یہ ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ آپ نے یہاں کیا محسوس کیا۔ میں نے پوری دنیا میں اتنا مہمان نواز ملک نہیں دیکھا، یہاں کے لوگ ناقابل بیان حد تک گرم جوش اور خالص ہیں، مجھے کبھی بھی اس طرح سے خوش آمدید نہیں کہا گیا تھا، یہاں مسکرانے کی ایک عادت پائی جاتی ہے، یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو گذشتہ کئی سالوں سے پِس رہا ہے لیکن پھر بھی اتنا تحمل مزاج ہے'۔
انھوں نے سب کو ایک خاص انداز میں پاکستان آنے کی بھی دعوت دے ڈالی، ان کا کہنا تھا، 'میں آپ سب کو چیلنج کرتی ہوں کہ پاکستان آئیں اور اسے بالکل پسند نہ کریں کیوں کہ اب تک مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملا، جس نے پاکستان کو پسند نہ کیا ہو'۔
ان کا کہنا تھا، 'میں نے پاکستان میں 7 خوبصورت ماہ گزارے اور میں چاہتی ہوں کہ ہر کوئی اس شاندار ملک کو ایک موقع ضرور دے'۔
آخر میں کلارا نے 'شکریہ پاکستان' کا ایک نعرہ بھی لگایا۔
From Dawn News

0 Comments: