اگر کسی فرد کا دل دھڑکنا بند ہوجائے تو زندہ رہنا ناممکن ہوجاتا ہے مگر کیا آپ کسی ایسے شخص کا تصور کرسکتے ہیں جو ڈیڑھ سال تک بغیر دل کے بھی زندہ رہا؟
جی ہاں امریکا کا ایک 25 سالہ نوجوان ایسا ہے جو دل کے مختلف مسائل کا شکار تھا اور اس کی ٹرانسپلانٹ سے پہلے وہ ڈیڑھ سال تک مصنوعی دل پر زندہ رہا۔
ڈیڑھ سال تک اس نوجوان کا دل ایک بیک پیک میں رہا اور وہ مصنوعی دل کی دھڑکن پر اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہا۔
اسٹان لارکن نامی نوجوان کا دل اُس وقت کام کرنے سے قاصر ہوگیا تھا جب وہ 24 سال کا تھا۔
اس موقع پر مشی گن یونیورسٹی کے طبی ماہرین نے اسٹان لارکن کا دل جسم سے نکال لیا اور اس کی جگہ ایک میکنیکل دل لگادیا۔
اپنے مصنوعی دل کے ساتھ اسٹان لارکن گھر جانے کے قابل ہوگیا اور وہاں وہ ڈیڑھ سال تک ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا انتظار کرتا رہا۔
تاہم اس کا مصنوعی دل اتنا طاقتور تھا کہ وہ باسکٹ بال کھیلنے کا شوق بھی پورا کرلیتا تھا جس دوران اسے کسی قسم کی جسمانی کمزوری کا سامنا نہیں ہوتا۔
اس نوجوان کے مصنوعی دل میں 2 ٹیوبز موجود ہیں جو ہوا کو پمپ کرتی ہیں جس سے وہ پورے جسم میں خون فراہم کرنے میں کامیاب رہتا۔
یہ ٹیوبز اسٹان کے معدے سے گزرتی ہیں اور ایک بیرونی ڈیوائس سے منسلک ہیں جسے وہ ایک بیک پیک کی شکل میں ہر جگہ اپنے ساتھ لے کر جاتا۔
عام طور پر انسانی دل ایک برقی پاور ہاﺅس کا کام کرتا ہے جو ہزاروں گیلن خون روزانہ جسم بھر میں سپلائی کرتا ہے، جس کو مصنوعی ماڈل سے بدلنا مشکل تو ہے کیونکہ اسے بغیر رکے اور غلطی کیے بغیر کام کرنے کے لیے بہت زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اب تک اس طرح کے مکینیکل دل ہزاروں مریضوں کی زندگیوں کو بچانے میں مددگار ثابت ہوچکے ہیں خاص طور پر اس وقت جب وہ ٹرانسپلانٹ کے منتظر ہوں۔
اسٹان لارکن کو بھی اٹھارہ ماہ تک مصنوعی دل پر زندہ رہنے کے بعد ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا موقع ملا اور اب وہ صحت مند زندگی گزار رہا ہے۔

0 Comments: